Faiz Ahmad Faiz Poet of Hope Love and Revelation

Faiz Ahmad FaizBiography of Faiz Ahmad Faiz a Poet of Hope

پاکستا ن کے شہرہ آفاق شاعر فیض احمد فیض جو اپنی انقلابی شاعری کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ۲۳فروری ۱۹۱۱ کو کوکالا ضلع ناروال  میں پیداہوئے۔آپ کے والد سلطان محمد خان علم کے دلدادہ اور پیشے کے اعتبارسے ایک وکیل تھے
آپ کی والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ آپ کے والد گرامی امارات افغانستان کے امیر عبدالرحمان کے سیکرٹری کے طور پر بھی امور انجام دیتے رہے تھے اور بعد ازاں اس کی سوانح حیات بھی پبلش کی۔
فیض کے گھر سے کچھ دوری پر ایک حویلی تھی۔ یہاں اکثر پنڈت راج نارائن ارمان مشاعروں کا انعقاد کیا کرتے تھے، جن کی صدارت منشی سراج الدین کیا کرتے تھے؛ منشی سراج الدین، مہاراجہ کشمیر پرتاپ سنگھ کے منشی تھے اور علامہ اقبال کے قریبی دوست بھی۔ انہی محفلوں سے فیض شاعری کی طرف مرغوب ہوئے اور اپنی پہلی شاعری دسویں جماعت میں قلمبند کی۔

فیض کے گھر کے باہر ایک مسجد تھی جہاں وہ فجر کی نماز ادا کرنے جاتے تو اکثر مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کا خطبہ سنتے اور ان سے مذہبی تعلیم حاصل کرتے۔
1921 میں فیض   صاحب نے سکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا اور سکو ل تک کی تعلیم یہاں ہی مکمل کی۔اس کے بعد پھر آپ نے ایف اے کا امتحان مرے کالج سیالکوٹ سے پاس کیا ۔ آپ کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق ( جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے) بھی شامل تھے ۔ آپ نے اسکول میں فارسی اور عربی زبان سیکھی۔

فیض صاحب نے اپنی گرایجویشن گورنمنٹ کالج لاہور سےمکمل کی  اور پھر وہیں سے 1932ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں بھی ایم اے کیا۔
1935 میں آپ درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔۔ اور علی گڑھ کے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ میں انگیزی اور مغربی ادب کی لیکچررشپ حاصل کر لی۔ 1936 میں پھر ہیلے کالج لاہور میں دوستوں کے ساتھ مل کر انجمن ترقی پسند مصنفین تحریک کی بنیاد ڈالی۔اس تنظیم میں باقی سب شعرا  شدت اور ذہنی انتشارکا شکار تھے ۔ فیض اِس اِنتہا پسندی سے گریز کرتے ہوئے اعتدال کی راہ اختیار کرتے رہے۔
1941 میں فیض نے لبنانی نژاد برطانوی خوبرو ایلس جارج سے کشمیر میں شادی کرلی۔ ان کا نکاح سری نگر کے شیخ محمدعبداللہ نے پڑھایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جوڑے نے اپنا ہنی مون مہاراجہ ہری سنگھ کے پری محل میں منایا۔۔۔ایلس فیض کی شخصیت اور انکی  زبردست شاعری سے بہت متا ثر تھی۔ فیض کے خاندان کو یہ بات بالکل ناپسند تھی کہ اُنہوں نے اپنے لئے ایک غیرملکی عورت کا انتخاب کیا، لیکن فیض کی ہمشیرہ نے اپنے خاندان کو ایلس کے لئے آمادہ کر لیا۔
1942 فیض نے ہندوستانی فوج میں بحثیت کیپٹن ملازمت اختیا ر کر لی۔۔۔ اور دوسری جنگ عظیم میں فوج کے  محکمۂ تعلقات عامہ میں کام کرنے کا انتخاب کیا۔1944 میں فیض ترقی کر کے لیفٹیننٹ کرنل ہوئے1947میں پہلی کشمیر جنگ کے بعد آپ فوج سے مستعفی ہو کر لاہور آگئے۔
فروری 1951میں لیاقت علی خان کی گورنمنٹ کو گرانے کا ایک منصوبہ چیف آف جنرل سٹاف، میجر جنرل اکبر خان کے گھر پر ایک خفیہ ملاقات
میں طے پایا جس میں دیگر فوجی افسران بھی سجاد ظہیر اور فیض کے ساتھ شامل تھےیہ سازش بعد میں راولپنڈی سازش کے نام سے جانی جانے لگی۔
مارچ ۱۹۵۱ میں پنڈی سازش کیس کی پاداش میں  حكومتِ وقت نے گرفتار كر لیا۔ پھر اگلے چار سال آپ ملک کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل رہے۔آپ کی کتاب زنداں نامہ اس پس منظر میں ہے۔ رہا ہونے کے بعد آپ نے جلاوطنی اختیار کی ۔۔۔

فیض نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے         اپنا کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
شاعری کے مجموعے


    سر وادی سینا
    شام شہر یاراں
    دست صبا
    زنداں نامہ
    مرے دل مرے مسافر
    نسخہ ہائے وفا (کلیات)
    نقش فریادی
    دست تہ سنگ


دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے|وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

ویراں ہے میکدہ، خم و ساغر اداس ہیں|تم کیا گئے کہ رُوٹھ گئے دن بہار کے

اِک فرصتِ گناہ ملی وہ بھی چار دن| دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنیا نے تری یاد سے بیگانہ کر دیا|تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے

بُھولے سے مسکرا تو دئے تھے وہ آج فیض|مت پوچھ ولولے دلِ نا کردہ کار کے

آپ 20 نومبر 1984 کو اس در فانی سے کوچ کر گئے

Comments

Popular Posts