Habib Jalib Urdu Poet of Inqilab

habib jalib inqilabi poetry


 

Life of Habib Jalib Best Poet of Inqilabi Poetry


اردوزبان کے انقلابی صفت شاعر حبیب جالب1928ء ہوشیار پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل اور ثانوی تعلیم کراچی کے جیکب لائن ہائی سکول سے حاصل کی ۔ ان دنوں جالب نے روزنامہ جنگ کی ملازمت بھی کرتے رہے۔ اس کے بعد کپڑے کے کارخانے میں بھی ملازمت کی
کچھ عرصہ کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک کے بھی سرگرم رکن رہے۔ اسی پارٹی میں در حقیقت جالب کو طبقاتی شعور ملا۔اور معاشرے میں جگہ جگہ پھیلی ناانصافیوں اور جبر و استبدال کو اپنی نظموں میں عنوان کیا۔ شہر شہر گھومنے کی ہجرتی زندگی بالآخر لاہور آکر ختم ہوئی اور مستقل یہیں کہ ہوکر رہے گئے۔اور لاہور میں ہی جالب کا پہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے 1957ء میں شائع ہوا۔ جس کے چند اشعار آج بھی ضرب مثل ہیں
جالب بنیادی طور پر ایک انقلابی صفت کے عامل تھے انہوں نے ایوب اور یحیٰ کے مارشل لا کے خلاف جب بولنا شروع کیا تو اس پاداش میں ان کو جیل کی ہو ا بھی کھانی پڑھی۔ سلاسل کے اس دور میں انہوں نےکچھ اشعار لکھے”سرِمقتل” کے عنوان سے جو حکومتِ وقت نے ضبط کر ليۓ ۔ ان کی اس دور کی شاعری آمریت کے خلاف ایک خوبصورت جنگ لڑی جس میں بہت حد تک کام یاب بھی رہے۔
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
یہ ہی وجہ تھی کے مشرف کے دور میں بھی ان کے مخالف سیاسی لیڈر جالب کے مصرعے کہتے ہوئے سنے گے جنہیں عوام میں زبردست پذیرائی ملی۔
الغرض جالب کی ساری زندگی مارشل لا کے خلاف جدوجہد میں گزری۔ جب ضیا کے دور میں حیدرآباد سازش کیس اپنے اختتام کو پہنچا نہ تو بھٹو کی چاپلوسی کی نہ ضیا کی مداح سرائی میں ہلکان ہوئے۔ بلکہ یہ کہا کہ
ظلمت کو ضیا ء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
جالب کی سار ی زندگی فقیری میں گذری۔ یوں تو جالب جگرمراد آبادی سے متاثر نظر آئے مگران کی شاعری عام آدمی کے ظلم کے حقوق کی بے باک صدا ہے۔
جالب نے زندگی میں حکومتوں کی مخالفت تو کی مگر عوام کا بھر پور اخلاص بھی پایا۔ جن میں ہر شعبۂ زندگی کے لوگ شامل تھے۔مگر جالب نے کبھی بھی اپنے لیے یا اپنے خاندان کے لیے کسی سے کچھ لیا ہو۔انکے بچے بھی عام سے تعلیمی اداروں سے پڑھ کر جوان ہوئے۔جالب ایک سچے اور مخلص انسان اور ایک محب الانسان واقع ہوئے۔
جالب نے کچھ نامور فلموں کے گیت بھی لکھے جیسے فلم زرقا میں ’رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔اور چند اور فلموں کے گیت بھی لکھے۔ ان کی تصانیف درج ذیل ہیں

صراط مستقیم
ذکر بہتے خوں کا
گنبدِ بے در
اس شہرِ خرابی میں
گوشے میں قفس کے
حرفِ حق
حرفِ سرِ دار
احادِ ستم
جالب  13 مارچ 1993ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان ہی کا نام پر  2006ء سے  حبیب جالب امن ایوارڈ کا بھی اجرا ہوا۔




habib jalib inqilabi poetry

habib jalib poetry in urdu

habib jalib poetry in urdu

habib jalib poetry 2 lines



 

 

Comments

Popular Posts