Ibn e Insha Best Poet Humorist & Travelogue writer

ibn e insha poetry



Note on Ibn e Insha a Poet, Humorist and Travel Writer of Urdu Language.

 

اردو ادب کا ایک نامور نام ابن  انشاء جن کا اصل نام شیر محمد خان تھا جون 1927ء کو ضلع جالندھر کے ایک چھوٹے سے گاوں کے ایک کاشتکار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انشاء نے اپنی گرایجویشن پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کی تھی ۔ پاکستان بننے  کے فورا بعد انشاء ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوئے۔ اور وہیں پر 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ انشا نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر بھی رہے۔
انشاجی بہت سے اخبارات اور رسالوں میں زبردست فکاہیہ کالم لکھتے تھے۔ انشا کی نثر ہو کہ نظم اپنی وجود میں ایک زبردست سراپا لیے ہوئے تھی۔
انشا جی کی شاعری ایک منفرد مقام کی مالک ہے۔ انشا جی کے چار مجموعے شائع ہوئے۔

اس بستی کے اک کوچے میں
دلِ وحشی
بلو کا بستہ (بچوں کے لیے نظمیں)

ابن انشاء  پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیکو میں مطالعاتی مواد کے امور کے مشیر کی حیثت سے دنیا میں بہت سے سفر بھی کرتے رہے۔ انشا جی کو یوں بھی سفر گھمنے پھرنے کا شوق تھا ۔ لہذا انشا جی نے ان تمام مسافتوں کو طے کیا اور ساتھ زبردست سفر نامے بھی تحریر کئے جو کسی بھی دور میں پڑھنے والوں کو اس دنیا میں لے جاتے ہیں ۔ انشا جی کے سفر نامے :

آوارہ گرد کی ڈائری
دنیا گول ہے
ابن بطوطہ کے تعاقب میں
چلتے ہو تو چین کو چلئے
نگری نگری پھرا مسافر
انشا جی کو ادب کے سارے موضوعات پر ملکہ تھا۔ ان کے مضامین بھی زبردست اور منفرد معلومات اور افکار کے آئینہ دار ہیں۔ جیسے کہ
آپ سے کیا پردہ
خمار گندم
اردو کی آخری کتاب
انشا جی کا انتقال  1978ء کو لندن میں ہوا۔

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانا کیا
پھر ہجر کی لمبی رات میاں سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو شرمانا کیا گھبرانا کیا
اس روز جو ان کو دیکھا ہے اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی وہ بات بھی تھی افسانا کیا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانا کیا
اس کو بھی جلا دکھتے ہوئے من اک شعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا یوں ماٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا


جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا
کبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیا
کبھی بستیاں بن کبھی کوہ و دمن رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن
جہاں حسن ملا وہاں بیٹھ رہے جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا
شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگر
کبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا
یہی عشق بالآخر روگ بنا کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا
جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا بڑا من کے نگر میں فساد کیا
اب قربت و صحبت یار کہاں لب و عارض و زلف و کنار کہاں
اب اپنا بھی میرؔ سا عالم ہے ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا

ibn e insha poetry in urdu

ibn e insha books

ibn e insha ghazals

ibn e insha family

ibn e insha 2 line poetry

ibn e insha quotes

ibn e insha real name

ibn e insha biography in urdu

Mir Taqi Mir Best Poet of Urdu History
Jaun Elia His Poetry and Short Biography


 

Comments

Popular Posts