Iftikhar Arif a Poet of Modern Day Urdu Ghazal

iftikhar arif poetry


Short Biography of Iftikhar Arif Best Poet of Modern Ghazal and Poetry

 

افتخارعارف کا پورا نام افتخار حسین عارف ہے ۔ جس میں افتخار حسین نام اور عارف ان کا تخلص ہے۔ افتخار عارف مارچ 1944ء کو موجودہ بھارت کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئے۔ افتخار عارف نے پاکستان بننے کے کافی عرصے بعد پاکستان ہجرت کی تھی۔ اس دوران انہوں نے اپنا بی اے اور ایم اے کا امتحان بھی لکھنو یونیورسٹی سے پاس کیا۔ اور لگ بھگ ۱۹۶۵ میں پاکستان آ گئے۔ پاکستان آنے کے بعد آپ کراچی سیٹل ہوگئے۔ آپ نے اپنا پیشہ ورانہ کیئرر ریڈیو پاکستان سے بطور ایک نیوز کاسٹر کے شروع کیا۔ اور پھر کچھ ہی عرصے بعد ریڈیو پاکستان چھوڑ کر پی ٹی وی کو جوائن کر لیا۔ آپ نے کولمبیا یونیورسٹی سے صحافت کا کورس بھی کیاہے۔ پی ٹی وی پر آپ کا ایک پروگرام کسوٹی ملک بھر میں بہت مقبول ہوا۔ جس پر آپ کو ملک گیر شہرت اور پذیرائی بھی ملی۔اس کے بعد ایک بینک کے تعاون سے چلنے والے اداراے اردو مرکز کو جوائی کر لیا۔ اور یوں آپ انگلینڈ روانہ ہوگئے۔کافی وقت انگلستان میں گزارنے کے بعد جب وطن لوٹے تو آپ مقتدرہ قومی زبان کے صدر ۲۰۰۸ میں بنے اور ملک بھر میں زبان کی ترویج اور ترقی پر بہت محنت کے ساتھ کام کرتے رہے۔ آج کال افتخار عارف ایران کے شہر تہران میں ای سی او کے ثقافتی مرکز کے انچارج ہیں اور تہران کے ادبی حلقوں میں کافی سرگرم ہیں۔ تہران میں کوئی بھی اردو مشعرا ان کے بے غیر نامکمل ہوتا۔ اور بہت ہر دل عزیز گردانے جاتے ہیں۔
افتخار عارف اس دور کی اردو ایک نہایت باوصف اور سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ ان کے کلام میں بلا کی پختگی انکا طرح امتیاز ہے۔ جس سنجیدگی اور کمال فن سے ان کے سخن کا اظہار ہے وہ اس عصر کے شعرا میں خال خال ملتا ہے۔ ان کی شاعری میں عبوری باتیں نہیں بلکہ مکمل داستان کی صورت تجربات لفظوں میں ڈھلے ملتے ہیں۔ اس میں زمانے کی نیرنگی سے لیکر ہر پیچدگی تک کے سار ے رنگ ملتے ہیں

افتخار عارف کا ایک اور کمال ان کی اپنی شاعری پر مٖضبوط گرفت جو دوسر ے شعرا سے انہیں ممتاز کرتی ہے۔ وہ ایسے شاعر ہیں جو  سوچنا ، محسوس کرنا اور بولنا جانتا ہے جب کہ اس کے ہمعصروں میں بیشتر کا المیہ یہ ہے کہ یا تو وہ سوچ نہیں سکتے یا وہ محسوس نہیں کر سکتے اورسوچ اور احساس سے کام لے سکتے ہیں تو بولنے کی قدرت نہیں رکھتے۔اسی لیے جس نے بھی ان کی شاعری کا مطالع کیا ایک بات ضرور کہی کہ افتخار عارف جدید اردو غزل کی سب سے توانا اور اپنی طرف کھینچنے والی آواز کے مالک ہیں اور اس دور میں ایسی آسودہ صفت شاعری شاید کسی بھی اور شاعر نے نہیں کی۔

آپ کی درج ذیل تصانیف میں ایک سے بڑھ کی ایک شاہکار آپ کو ملے گا۔
بارہواں کھلاڑی
مہر دو نیم
حرفِ باریاب
جہان معلوم
شہر علم کے دروازے پر
کتاب دل و دنیا کلیات
Written in the Season of Fear
مکالمہ
در کلوندہ
افتخار عارف جی نظمن جو سندی ترجمو

آنسو بھی تو ماؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
رستہ دیکھنے والی آنکھوں کے انہونے خواب
پیاس میں بھی دریاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
ایک ذرا سی جوت کے بل پر اندھیاروں سے بیر
پاگل دیئے ہواؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے
پھولسے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
ہم نے چپ رہنے کا عہد کیا ہے اور کم ظرف
ہم سے سخن آراؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
 

iftikhar arif best poetry

iftikhar arif poetry images
iftikhar arif shayari
iftikhar arif books pdf
iftikhar arif biography
iftikhar arif poetry barhwan khilari
iftikhar arif ghazals

 

Ahmad Nadeem Qasmi Life Biography and Books
Parveen Shakir Poetess of Khusboo Biography


Comments

Popular Posts