Mir Taqi Mir Best Poet of Urdu History


mir taqi mir poetry


Biography Mir Taqi Mir The Best ever poet of Urdu Literature history.



ردو ادب کے عظیم سخنور میر تقی میر کا اصل نام میر محمد تقی تھا ۔ اور میر وہ تخلص کرتے تھے۔ میر فروری 1722ء  کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدمحمد علی آگرہ کے ایک درویش صفت انسان تھے۔ میر کی عمر لگ بھگ نو سال تھی جب ان کے والد کا انتقال پرملال ہوگیا۔یہاں سے میر کی زندگی  کے طویل رنج و الم سے بھرپور زندگی آغاز ہوتا ہے۔

میر سے ان کے سوتیلے بھائی کا رویہ بھی کچھ ٹھیک نہ تھا لہذا میر فکر معاش میں سرگداں دہلی چلے آئے۔ اور ایک نواب کے ہاں نوکری کر لی۔ مگر جلد ہی اس نواب کا انتقال ہوا تو پھر آگرہ آنا پڑا۔ مگرکچھ وقت کے بعد پھر دہلی اپنے خالو سراج الدین آرزو کے پاس پہنچ گئے۔ سوتیلے بھائی نے وہاں سے بھی چلتا کروا دیا۔ اب میر کی حالت کچھ غم دوراں، کچھ غم جاناں سے جنوں میں ڈھل گئی تھی۔
وہاں سے پھر لکھنو پنچے اس وقت میر کی شاعری کا ڈھنکا بج چکا تھا۔نواب آصف الدولہ نے میر کی شاعری سنی تو انکا وظیفہ بھی مکرر کر دیا۔ کچھ وقت تو یوں ہی چلتا رہا مگرمیر اپنے اندر کی تلخی کو چھپا نہ پایا اور نواب سے بھی کچھ وقت بعد قطع تعلق کرلیا۔ حالانکہ نواب آصف الدولہ انتہائی وضع دار اور میر کا خیال رکھتے تھے
میر کی سخنوری کو تو پورے جگ نے سراہایا مگر آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
؎
ریختہ كے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ                          
کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھا
اور غالب کے علاوہ بھی بہت سے شعرا اکرام نے میر تقی میر کے بارے میں بہت کچھ اپنی شاعری میں کہا ۔ مثلا

سودا تو اس زمین میں غزل در غزل لکھ
ہونا ہے تم کو میر سے استا د کی طرح (سودا)
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں (غالب)
نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا (ذوق)
شعر میرے بھی ہیں پردرد، و لیکن حسرت
میر کا شیوہ گفتار کہاں سے لاؤں (حسرت)
اللہ کرے میر کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی (ابنِ انشا)
معتقد ہیں اگرچہ غالب کے
میر کو بھی سلام کرتے ہیں (حزیں جی)
بقول عبدالحق،
” اُن کا ہر شعر ایک آنسو ہے اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے۔“
ایک اور جگہ عبدالحق لکھتے ہیں،
” انہوں نے سوز کے ساتھ جو نغمہ چھیڑا ہے اس کی مثال دنیائے اردو میں نہیں ملتی            

یوں تو میر تقی میر ایک ایسا موضوع ہے جس پر لفظ کم پڑھ جاتے ہیں مگر میر کی شاعری اور شخصیت کو اگر کچھ عنوان دئیے جائیں توکہا جا سکتا ہے کہ میر: غم و حزن، دردمندی،بلند حوصلگی، دنیا کی بے ثباتی،نغمگی و ترنم،حکیمانہ روش،تصوف،محبوب کا تصور، عشق کی فسوں کاری
ان عنوانات سے مزین ایک لطیف انسان تھے
میر جب نواب آصف الدولہ سے ناراض ہوکر گھر بیٹھ گئے تو ان کے دن پھر کسمپرسی میں گزرنے لگے۔  اور بالآخر 20 ستمبر 1810ء کو لکھنو میں ہی اس شہنشائے سخن انتقال ہوا۔

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے
ہم تو اپنی اور سے آئے بہت
دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹک
ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
گر بکا اس شور سے شب کو ہے تو
روویں گے سونے کو ہم سایے بہت
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب
رشک سے گل پھول مرجھائے بہت
میرؔ سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم
ہو کے کچھ چپکے سے شرمائے بہت



mir taqi mir poetry in hindi

best of meer taqi meer

mir taqi mir in hindi


meer taqi meer 2 line poetry

mir taqi mir 2 line shayari


meer taqi meer ki halat e zindagi in urdu


mir taqi mir ghazals tashreeh in urdu 


Jaun Elia His Poetry and Short Biography 

Habib Jalib Urdu Poet of Inqilab 

Comments

Popular Posts