Saghar Siddiqui A Poet of Sadness & Love

Short Biography of Saghar Siddiqui and His Poetry

Saghar Siddiqui


ساغر صدیقی کی نام سے پہچان پانے والا ایک عظیم شاعر جس کا اصل نام محمد اختر تھا ۱۹۲۸ میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ساغر کی ماں دلی کی تھی اور باپ پٹیالے سے تعلق رکھتا تھا اسی لیے تو ساغر نہ یہ کہا بھی تھا

میری ماں دلی کی تھی، باپ پٹیالے کا، پیدا امرتسر میں ہوا، زندگی لاہور میں گزاری! میں بھی عجیب چوں چوں کا مربّہ ہوں"

یہ سال ۱۹۴۲ یا ۱۹۴۴ کی بات ہوگی جب ساغر کے گھرمیں افلاس و تنگدستی نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ ساغر کی تعلیم بھی واجبی ہی تھی۔گھر کی غربت سے تنگ آکر آخر ساغر نے امرتسر کے ہال بازار میں ایک دوکاندار کے ہاں ملازمت اختیار کرلی۔وہ دوکاندار کنگھیاں بنا کر بیچتا تھا۔ ساغر نے بھی مجبوری سے تنگ آکر کنگھیا ں بنانے کا فن سیکھ لیا۔ یوں دن بھر وہ دوکان پر کنگھیاں بناتا اور رات کو اسی دعکان کے کانے میں پڑا رہتا ۔ یہی وقت تھا جب اس نے شعر کہنے بھی شروع کیے تھے۔اور یہ شعر پھر اپنے بے تکلف دوستوں کی محفل میں بھی سنانے لگا۔۔ اول اول اس نے اپنا تخلص ناصر حجازی چنا مگر پھر بدل کر اسے ساغر صدیقی کر لیا۔ جو وقت کیساتھ ساتھ اردو شاعری کا ایک عظیم نام بن گیا۔
ساغر کی اصل شہرت 1944ء میں ہوئی جب ساغر کو امرتسر کے ایک مشاعرہ میں اپنی پرسوز آواز اور ترنم سے شعر پڑھنے کا موقع ملاتو ساگر نہ محفل لوٹ لی۔اسی مشاعرے میں لاہور کے شعرا بھی تھے پھر کیا تھا ساغر کی مانگ امرتسر سے لاہور کے مشاعروں تک بڑھ گئی۔ اور یوں اس نے کنگھیوں کا کام چھوڑ کر اس پر قناعت شروع کردی۔مگر اس ساری تگ و دو سے صرف پیٹ ہی نکلتا تھااور گھر والے بھی ناراض کے ساغر آوارہ ہوگیا ہے۔ مگر اسے اس بات سے اب قطعی مطلب نہیں تھا وہ تو اپنی دھن میں سر ہلانے لگا تھا۔
پھر اس نے گھر آنا بھی چھوڑدیا۔اور شاعری کی باقاعدہ اصلاح لطیف انور گورداسپوری سے لینا شروع کی اور بہت فیض اٹھایا۔
پاکستان بننے کے بعد ساغر مستقل لاہور آگئے اور انور کمال پاشا کی سرپرستی میں گیت لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔

یہ 1952ء کی بات ہے ایک دن جب ساغر ایک جریدے کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے تو شدید سر درد اور اضمحلال کی شکایت ہوگئی ساغر کی دوست نے تعلق خاطر کا اظہار کیا اور اخلاص ہمدردی میں انہیں مارفیا کا ٹیکہ لگا دیا۔ سردرد اور اضمحلال تو دور ہو گیا مگر اس آشنائی نے ساغر کی زندگی کو نشے کی لذت سے آشنا کردیا۔ ان دنوں ساغر والد کے ایک دوست کے ساتھ اس کے مطب کی دوسری منزل پر رہتے تھے جہاں اس ڈاکٹر کا ایک اور دوست جو ہر طرح کے نشے کا عادی تھا اس نے بھی ساغر کو اس بری لت میں اپنے ساتھ شریک کر لیا اور یو ں ساغر نشے کا پکا عادی ہوگیا۔

خود ان کے دوستوں میں سے بیشتر ان کے ساتھ‍ ظلم کیا۔ یہ لوگ انہیں چرس کی پڑیا اور مارفیا کے ٹیکے کی شیشیاں دیتے اور ان سے غزلیں اور گیت لے جاتے، اپنے نام سے پڑھتے اور چھپواتے اور بحیثیت شاعر اور گیت کار اپنی شہرت میں اضافہ کرتے۔ اس کے بعد اس نے رسائل اور جرائد کے دفتر اور فلموں کے اسٹوڈیو آنا جانا چھوڑ دیا۔ اس میں بھی کوئی مبالغہ نہیں کہ اداروں کے کرتا دھرتا اس کے کام کی اجرت کے دس روپے بھی اس وقت ادا نہیں کرتے تھے، اور اسی بات پر ساغر کے اندر تلخی اس قدر بڑھ گئی اس نے خود کو نشے میں ڈبو دیا۔

اسی طرح لوگوں نے اس کے کلام کے مجموعے بھی چھاپ دیے مگر ساغر کو ایک دھیلا بھی نہ ملا۔ اس کی صبح و شام دوستوں سے چند روپے لیکر مارفیا اور چرس کے نشے میں مدہوش گزرنے لگے اور پھر اس کو فالج ہوگیا اور 19 جولائی 1974کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ساغر لہوتھوکتے تھوکتے پاک لیڈن پریس کے سامنے فٹ پاتھ پر گھڑی بنے اس دنیا سے کوچ کر گیا۔

ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’زہر آرزو‘، ’غم بہار‘، شب آگہی‘، ’تیشۂ دل‘، ’لوح جنوں‘، ’سبز گنبد‘، ’مقتل گل‘۔ ’’کلیات ساغر ‘‘ بھی چھپ گئی ہے







  saghar siddiqui poetry

  saghar siddiqui sad poetry

  saghar siddiqui sharabi poetry 

  saghar siddiqui poetry in urdu books

Comments

Popular Posts